کرسی_پر_نماز
کرسی پر نماز کا بڑھتا ہوا رجحان — شرعی، فقہی اور عملی پہلو*
مساجد میں پچھلے چند سالوں سے کرسیوں پر نماز ادا کرنے کا رواج انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ سہولت اُن لوگوں کے لیے تھی جو واقعی جسمانی معذوری کا شکار ہوں، جنہیں کھڑا ہونا یا سجدہ کرنا ممکن نہ ہو۔ لیکن اب صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ بہت سے لوگ بغیر کسی حقیقی معذوری کے کرسیوں پر نماز ادا کرنے لگے ہیں—حتیٰ کہ وہ مسجد تک پیدل آتے ہیں، خود کرسی اٹھا کر صف میں رکھتے ہیں، اور نماز سے پہلے بعد تک کھڑے ہوکر گفتگو بھی کرتے ہیں۔
فقہاء کی تصریحات کے مطابق:
> بلا عذرِ شرعی کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
کیوں؟
اس لیے کہ:
نماز کے بنیادی فرائض میں سے تین چیزیں ساقط ہو جاتی ہیں:
1. قیام
2. رکوع
3. سجود
اور شریعت کی رو سے یہ تینوں ارکان ترک نہیں کیے جا سکتے جب تک حقیقی معذوری موجود نہ ہو۔
کرسی پر نماز کا حکم — قرآن و حدیث کی روشنی میں
قرآن کا اصول: “
طاقت کے مطابق ادائیگی”
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
(البقرۃ: 286)
اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ انسان طاقت ہونے کے باوجود سہولت تلاش کرے…
بلکہ معنی یہ ہے کہ طاقت ہونے پر عمل لازم ہے، اور طاقت نہ ہونے پر رعایت۔
نماز معذوری کے ساتھ کیسے؟ — حدیث کی اصل بنیاد
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "صَلِّ قَائِمًا، فَإِن لَم تَسْتَطِع فَقَاعِدًا، فَإِن لَم تَسْتَطِع فَعَلَىٰ جَنْبٍ"
(صحیح بخاری: 1117)
ترجمہ:
نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل۔
یہ حدیث نماز کو سادگی سے بیان کرتی ہے — بغیر کرسی کے ذکر کے۔
نوٹ:
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کرسی موجود تھی (حدیث میں کرسی کا لفظ آتا ہے — جیسے جنّات کی بات کے موقع پر ابن صیاد کے پاس کرسی تھی)
مگر اس کے باوجود کسی صحابی، تابعی، یا فقہ کی قدیم کتب میں کہیں کرسی پر نماز کا ذکر نہیں ملتا۔
کیوں؟ اس لیے کہ…
کرسی نماز کا طریقہ نہیں، معذوری کا بدل ہے۔
فقہائے احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ سب کے نزدیک:
> “جب انسان زمین پر سجدہ کرنے پر قادر ہو تو سجدہ چھوڑ کر محض اشارے سے نماز جائز نہیں۔”
کیونکہ قرآن میں سجدہ کرنے کا حکم واضح ہے:
> وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ
(العلق: 19)
سجدہ کرو اور اپنے رب کے قریب ہو جاؤ۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
> "اُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَىٰ سَبْعَةِ أَعْظُمٍ"
(بخاری و مسلم)
مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
کرسی پر نماز پڑھنے والا اگر سجدہ کر سکتا ہو مگر پھر بھی نہ کرے تو سات اعضاء کے سجدے کی یہ سنت پوری نہیں ہوتی، اور سجدہ صرف اشارے سے ناقص ہوتا ہے۔
نقالی، سہولت پسندی اور غیر علمی رویہ
آج کل لوگ:
کسی شخص کو کرسی پر نماز پڑھتے دیکھتے ہیں
بغیر سوال کیے خود بھی یہی عمل شروع کر دیتے ہیں
اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہ آسان اور درست طریقہ ہے
یہ رویہ قرآن کی اس ہدایت کے خلاف ہے:
> فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(النحل: 43)
اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔
ائمہ مساجد کی ذمہ داری
مساجد کے ائمہ و خطباء پر بھی لازم ہے کہ:
1. لوگوں کی حالت معلوم کریں
2. بلا عذر کرسی پر نماز کی غلطی کی اصلاح کریں
3. معذور افراد کو درست طریقہ بتائیں
4. صفوں کا نظم برقرار رکھیں
اگر مساجد میں بے جا کرسیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر خاموشی اختیار کی جائے گی تو:
صفوں میں خلل پیدا ہوتا ہے
مساجد کی ہیئت تبدیل ہوتی ہے
نصاریٰ (عیسائیوں) کی عبادت گاہوں سے مشابہت پیدا ہوتی ہے
اور سب سے بڑھ کر—لوگوں کی نمازیں ناقص یا فاسد ہونے لگتی ہیں
اصل مسئلہ: معذوری نہیں، غلط فہمی اور سہولت پسندی
اسلام نے بیمار اور معذور کو رخصت دی ہے—
لیکن رخصت اُس کے لیے ہے جو حقیقی معذوری رکھتا ہو۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
> "إن الله يحب أن تؤتى رخصه كما يكره أن تؤتى معصيته"
(مسند احمد)
یعنی:
اللہ چاہتا ہے کہ رخصت اسی وقت اختیار کی جائے جب واقعی اس کی حاجت ہو۔
نتیجہ
کرسی پر نماز معذوری کی حالت میں رحمت ہے…
لیکن بلا عذر یہ رخصت نہیں، عبادت کی ہیئت میں تبدیلی ہے—جو جائز نہیں۔
مسئلہ بہت نازک ہے:
▪ نماز دین کا ستون ہے
▪ اس میں ہلکی سی غلطی بھی پوری نماز کو متاثر کرتی ہے
▪ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی معذوری کے متعلق عالمِ دین سے مشورہ کرے
Comments
Post a Comment